ایران روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا مشترکہ بیان

Hits: 0

ایران روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں اپنے اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کرکے شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے تحفظ پر زوردیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران ، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جو شام میں فائربندی کے ضامن ملک ہیں ہفتے کو ماسکو میں اپنے دوسرے اجلاس میں شام کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے بیان میں ایران روس اور ترکی کے گذشتہ سربراہی اجلاس کے بیان کے مطابق باہمی تعاون کی تقویت پر زور دیا گیا ہے۔

اس درمیان مذکورہ تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چوّن کی بنیاد پر شام سے متعلق پیش کئے گئے ویژن کے تناظرمیں پائیدار سیاسی حل کے حصول کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

بیان میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آستانہ سیاسی عمل شام کے بحران کے حل کے لئے کار آمد اقدام ہے کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں اگلا اجلاس مئی میں آستانہ میں ہوگا۔ بیان میں شام کے اندر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے ایسے ہر اقدام کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے جس سے شام کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کو نقصان پہنچتا ہو۔

دریں اثنا ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے اجلاس کے اختتام پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران شام کی ارضی سالمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف بہانوں سے شام پر دباؤ ڈال کر اس ملک کے بحران کا سیاسی حل نہیں تلاش کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ سب کو یہ بات سمجھ لینی چـاہئے کہ فوجی اہداف کو مذاکرات کی میز پر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کے لئے ضروری ہے کہ شامی عوام کی مدد اور شام کی تعمیر نو کے لئے اس کی مدد کرے اور شام میں تعمیر نو کےعمل کو اپنے سیاسی مطالبات کی تکمیل کے اقدام کے طور پراستعمال نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ آستانہ کے سیاسی عمل کو شروع کرنے کا ایران روس اور ترکی کا صرف ایک مقصد تھا وہ یہ کہ شام میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جائے اور شامی حکومت کے مخالفین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ اسی سیاسی عمل کے ہی نتیجے میں گذشتہ سات برسوں سے شام میں جاری تکفیری دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کے وحشیانہ اقدام کو کم کیا گیا ہے اور حالات قدرے پرسکون ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کے بارے میں تحقیقات غیر جانبداری کے ساتھ انجام پائیں گی اور ان کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔

دوسری جانب روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے بھی شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی شام میں کوئی سیاسی حل نکلنے والا ہوتا ہے تو اس پر حملہ کردیا جاتا ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ملکوں کے حملے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے کہا کہ مقابل فریق چاہتا ہے کہ مشرق وسطی میں نیا بحران پیدا کرے۔ انہوں نے کہاکہ شام سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں سب کو چاہئے کہ وہ شامی حکومت کی مدد کریں۔

The post ایران روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا مشترکہ بیان appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

taxi -

macbook tamir

- mersinportal.net - kalebet giriş