Ahlebait TV The Latest Archives | Ahlebait TV

Categories : The Latest

ہندو سادھو آسارام کم سن لڑکی سے زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار

Hits: 8

بھارتی عدالت نے معروف سادھو اور مذہبی پیشوا آسارام کو 16 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور کی جیل میں اسپیشل ٹرائل کورٹ نے معروف ہندو سادھو آسارام کو جنسی زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ دیگر دو ملزمان پر بھی جرم ثابت ہو گیا جب کے مقدمے میں شریک دو ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کردیا گیا۔ ملزمان کے خلاف سزا کا تعین کیا جانا باقی ہے جو آج کسی بھی روز ممکن ہے۔

سادھو آسارام کے چیلوں کی جانب سے امن عامہ کو نقصان پہنچانے کے خدشے کے سبب مقدمے کا فیصلہ جودھ پور کی جیل میں سنایا گیا جہاں آسارام اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ قید ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں ایک اور مذہبی پیشوا گرمیت رام رحیم کے خلاف فیصلہ آنے پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔
ہندوؤں کے مذہبی پیشوا پر اپنی 16 سالہ شاگرد کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام تھا۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ آسارام نے 15 اگست 2013 کو جودھ پور کے آشارام میں زیادتی کی تھی جہاں وہ تعلیم کے غرض سے مقیم تھی۔ زیادتی کے بعد لڑکی کے والد نے عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد آسارام کو 31 اگست 2013 کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

آسارام کی گرفتاری کے بعد جودھ پور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جب کے زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے خاندان کو بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس مقدمے کے دو گواہوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ ہمیں انصاف ملنے پر خوشی ہے اور امید کرتے ہیں ملزم کو سخت سزا دی جائے گی تاہم جن گواہوں کو قتل کیا گبا ہے انہیں بھی انصاف ملنا چاہیئے۔

ہندووں کے 77 سالہ مذہبی پیشوا آسارام کے دنیا بھر میں 400 سے زائد آشرام ہیں اور دنیا بھر میں ان کے پیروکاروں کی تعداد کروڑوں میں ہے تاہم اُن پر کم سن بچوں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات درج ہیں لیکن صرف ایک مقدمے میں انہیں مجرم قرار دیا گیا ہے جس پر آسارام کے وکلاء نے عدالتی فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آسارام تقسیم ہند سے قبل سندھ میں پیدا ہوئے تھے اور قیام پاکستان کے بعد اہل خانہ سمیت بھارتی ریاست گجرات ہجرت کر گئے تھے۔

The post ہندو سادھو آسارام کم سن لڑکی سے زیادتی کے مقدمے میں مجرم قرار appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

گولڈن ٹیمپل کو گولڈن مسجد لکھنے پر سفارتکار کی معافی

Hits: 3

برطانیہ کے ایک سینیئر ترین سفارتکار نے سکھ مذہب کے مقدس مقامات میں سے ایک کو غلطی سے مسجد کہنے پر معافی مانگی ہے۔

سر سائمن مکڈونلڈ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ان کے ایک ساتھی کو امرتسر، انڈیا میں ملکہ کی ‘سنہری مسجد’ میں لی گئی تصویر دی گئی تھی۔

انھوں نے بعد میں اپنے آپ کو درست کیا اور کہا کہ انھیں گولڈن ٹیمپل یا شری ہرمندر صاحب کہنا چاہیے تھا۔

پنجاب کی ریاست میں واقع گولڈن ٹیمپل سکھوں کے لیے زیارت کا اہم مقام ہے اور اسے 16 ویں صدی میں چوتھے سکھ گرو رام داس نے بنوایا تھا۔

ملکہ برطانیہ نے 1997 میں اس کا دورہ کیا تھا۔ اس سے تیرہ سال قبل انڈین فوج نے اس پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جسے انڈیا کی تاریخ کا ایک بہت متنازع واقعہ کہا جاتا ہے۔

انڈین حکومت کے مطابق اس آپریشن میں تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سکھ گروہوں کا کہنا ہے کہ 1000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ڈپلومیٹک سروس کے سربراہ سر سائمن کی ٹویٹ نے برطانوی سکھ برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور بہت سے افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔

‘سٹی سکھس’ تنظیم کے رہنما جسویر سنگھ کہتے ہیں: ‘اکثر سکھوں کو مسلمان سمجھا جاتا ہے اور برطانوی معاشرے میں عمومی طور پر مذاہب کے متعلق آگاہی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

‘تاہم یہ ماننا بہت مشکل ہے کہ ملک کے سب سے سینیئر ترین سفارتکاروں میں سے ایک مشہور گرو دوارے کو جسے حروفِ عام میں گولڈن ٹیمپل کہا جاتا ہے مسجد کہہ بیٹھیں۔ یہ بہت شرمندگی کی بات ہے اور ناقابلِ معافی ہے۔’

سر سائمن نے انڈیا کے شمالی شہر سے کافی ٹویٹ بھیجے ہیں جہاں وہ سیاستدانوں اور طالب علموں سے مل رہے ہیں۔

لگتا ہے کہ مسجد والا ٹویٹ ملکہ برطانیہ کی سالگرہ منانے کے لیے منعقد کی گئی ایک پارٹی سے کیا گیا جہاں پنجاب کی ریاست کے گورنر بھی موجود تھے۔

دریں اثناء لیڈز یونیورسٹی کے تحقیق کار ڈاکٹر جسجیت سنگھ نے کہا ہے کہ ’کہیں سر سائمن روشڈیل میں واقع مسجد کے متعلق تو نہیں سوچ رہے تھے جسے گولڈن مسجد کہا جاتا ہے‘۔

The post گولڈن ٹیمپل کو گولڈن مسجد لکھنے پر سفارتکار کی معافی appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

اسامہ بن لادن کے ’محافظ‘ کو جرمنی میں ماہانہ 1100 یورو دیے جاتے ہیں

Hits: 6

جرمن میڈیا نے سیکیورٹی کے پیشِ نظر اس شخص کا مکمل نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو کہ مبینہ طور پر القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا محافظ تھا، 1997 سے جرمنی میں مقیم ہے اور اسے ویلفیئر کی مد میں ماہانہ 1168 یورو دیے جاتے ہیں۔

یہ اطلاع علاقائی حکومت نے اس وقت شائع کی جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے سمیع اے نامی ایک شخص کے بارے میں معلومات کی درخواست کی۔

جرمن میڈیا نے سکیورٹی کے پیشِ نظر اس شخص کا مکمل نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس شخص نے جہادیوں سے تعلق کی تردید کی ہے۔ اس شخص کو ملک بدر کر کے تیونس بھیجنے کو رد کر دیا گیا ہے کیونکہ خدشات ہیں کہ وہاں اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔

اسامہ بن لادن القاعدہ کے سربراہ تھے اور مئی 2011 میں امریکی فورسز کے آپریشن میں پاکستان میں مارے گئے۔

9/11 کے حملوں میں خودکش پائلٹس میں سے کم از کم تین القاعدہ کے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں موجود سیل کے اراکین تھے۔

2005 میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک مقدمے میں ایک گواہ کے بیان کے مطابق سمیع اے نے سنہ 2000 میں کئی ماہ تک اسامہ بن لادن کے محافظ کے طور پر افغانستان میں کام کیا۔ انھوں نے اس الزام کی تردید کی ہے تاہم جج نے گواہ کی شہادت پر یقین کیا تھا۔

2006 میں سمیع اے کے القاعدہ کے ساتھ روابط کی تفتیش کی تاہم ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

اساما بن لادن جہادی تنظیم القاعدہ کے سربراہ تھے، انھوں نے 9/11 کے حملوں کی منظوری دی اور 2011 میں امریکی فورسز کے ہاتھوں پاکستان میں مارے گئے۔
سمیع اے اپنی جرمن اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ مغربی جرمنی کے شہر بوچم میں مقیم ہیں۔

انھوں نے 1999 میں جرمنی میں رہائش کا عبوری اجازت نامہ حاصل کیا اور انھوں نے ٹیکنالوجی کے حوالے سے متعدد کورسز کیے اور 2005 میں اس شہر منتقل ہوئے۔

2007 میں ان کی پناہ کی درخواست اس لیے مسترد کر دی گئی کیونکہ حکام نے انھیں سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ قرار دیا تھا۔ انھیں ہر روز مقامی تھانے میں حاضری لگانی پڑتی ہے۔

جرمن حکومت کا موقف ہے کہ مشتبہ جہادیوں کو شمالی افریقہ میں تشدد کا خطرہ ہے۔ اسی لیے تیونس اور ہمسایہ عرب ممالک میں مہاجرین کو واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ انسانی حقوق کی یورپی کنوینشن کے مطابق تشدد پر پابندی ہے۔

The post اسامہ بن لادن کے ’محافظ‘ کو جرمنی میں ماہانہ 1100 یورو دیے جاتے ہیں appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

ایران کےجوہری پرواگرام پر نئے معاہدے کی تجویز، میزائل پروگرام شامل کیا جائے گا: امریکہ

Hits: 8

ایران کے ساتھ نئے معاہدے میں بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر بھی بات کی جائے گی۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس کے صدر نے تجویز دی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر نیا معاہدہ ہو سکتا ہے۔

فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی۔

دونوں صدور کے درمیان بات چیت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سنہ 2015 میں ایران اور عالمی ممالک کے مابین طے پانے والے جوہری معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’ہم کچھ زیادہ توسیع کر رہے ہیں اور یہ ڈیل بھی ہو سکتی ہے۔‘

’جوہری معاہدے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں‘

’پہلے امریکہ اور یورپ اپنے جوہری ہتھیار اور میزائل ختم کریں‘

اس موقعے پر فرانسیسی صدر نے کہا کہ نئے معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر بھی بات کی جائے گی۔

انھوں نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کے برخلاف جوہری پروگرام شروع کیا تو ایران کے لیے ’بڑا مسئلہ‘ کھڑا ہو جائے گا۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے ’سخت نتائج‘ نکلیں گے۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں ایران اور مغربی ممالک کے مابین جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کو ’دیوانگی‘ قرار دیا۔ صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ 12 مئی کو اس جوہری معاہدے کی توسیع نہیں کریں گے۔

امریکہ صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ نیا معاہدہ ’مضبوط خطوط‘ پر استوار کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں یمن اور شام پر بات ہو اور تمام مشرقِ وسطیٰ پر بات ہو سکے۔‘

دوسری جانب فرانسیسی صدر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں تہران کے اثرو رسوخ کو بھی نئے معاہدے میں شامل کرنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں فرانسیسی صدر پہلے سربراہ مملکت ہیں جو باضابطہ سرکاری دورے پر امریکہ آئے ہیں
میخواں سے ملاقات کے بعد میڈیا نے جب پوچھا کہ کیا ایران جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد اپنی جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسا کرنا ایران کے لیے اتنا آسان نہیں ہو گا۔

’وہ کچھ بھی دوبارہ شروع نہیں کر سکیں گے۔ اگر انھوں نے دوبارہ شروع کیا تو ان کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جائیں گے اتنے بڑے جن کا سامنا ان کو کبھی پہلے نہیں ہوا۔‘

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر جوہری معاہدے سے امریکہ نکلتا ہے تو زیادہ امکانات ہیں کہ ایران بھی اس معاہدے کو ترک کر دے گا۔‘

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے متنبہ کیا تھا کہ اگر امریکہ اس جوہری معاہدے سے نکلتا ہے تو اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں فرانسیسی صدر پہلے سربراہ مملکت ہیں جو باضابطہ سرکاری دورے پر امریکہ پہنچے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اور جوہری معاہدے کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم استحکام چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اکٹھے ہو کر ہم ایران کے ساتھ ایک اور معاہدے کا راستہ نکال سکتے ہیں۔

اس ملاقات میں میڈیا کے سامنے ایک موقعے پر صدر ٹرمپ نے صدر میخواں کے کوٹ پر سے خشکی ہٹائی۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمارے روابط بہت خاص ہیں۔ میں ان کے کندھے پر تھوڑی سی خشکی ہے اس کو ہٹا دیتا ہوں۔ تھوڑی سی خشکی ہے۔‘

The post ایران کےجوہری پرواگرام پر نئے معاہدے کی تجویز، میزائل پروگرام شامل کیا جائے گا: امریکہ appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

اقوام متحدہ کی جانب سے جوہری معاہدے کی حمایت

Hits: 6

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے پر قائم رہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرمیں پائیدار امن کانفرنس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے جوہری معاہدے میں شریک تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں.

انہوں نے خطے میں قیام امن و سلامتی اور بحرانوں کو غیرفوجی طریقوں سے حل کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ کے کردار کو اہم قرار دیا.

فریقین نے شام اور یمن کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا.

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اقوام متحدہ کے پائیدار امن سے متعلق اجلاس سے بھی خطاب کیا.

The post اقوام متحدہ کی جانب سے جوہری معاہدے کی حمایت appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

لبنان انتخابات، علاقے کے حکام ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، سید حسن نصراللہ

Hits: 17

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے مشرق وسطی کی صورت حال کو حساس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام پر صیہونی حکومت کے مسلسل حملے نہ صرف شام کے لئے سنگین خطرہ ہیں بلکہ اس سے پورا خطہ بحران کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے پیر کی رات جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اپنے خطاب میں علاقے کی صورت حال کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورت حال کچھ ایسی ہے کہ دشمن طاقتیں اور ان میں سرفہرست امریکا اور صیہونی حکومت، مختلف حربوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے صورت حال کو زیادہ سے زیادہ کشیدہ اور علاقے کے ملکوں کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے-

انہوں نے پچھلے ہفتوں کے دوران شام پر صیہونی حکومت کے ہوائی اور توپخانوں کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکام امریکا کی حمایت سے شام کے بحران کا دائرہ علاقے کے دیگر ملکوں تک پھیلانا چاہتے ہیں بنابریں ان حالات میں علاقے کے ملکوں کے حکام کو چاہئے کہ پوری ہوشیاری کا مظاہرہ کریں-

سید حسن نصراللہ نے عراق اور شام میں داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی پئے در پئے شکست کو دہشت گردوں کے حامیوں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا باعث قرار دیا اور کہا کہ اسی لئے دشمن اشتعال انگیز اقدامات کے ذریعےعلاقے کے ملکوں کو کسی نہ کسی طرح بحران سے دوچار کرنا چاہتے ہیں-

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اگر حزب اللہ کے جوان اور لبنان کے فوجی، لبنان اور شام کی سرحدوں پر داعش کے خلاف جنگ نہ کرتے تو آج لبنان میں عام انتخابات کے انعقاد کا امکان معدوم ہو چکا ہوتا-

واضح رہے کہ لبنان میں عام انتخابات چھے مئی کو ہونے والے ہیں- حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم ملک کے اندر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان حقیقی اتحاد اور مشارکت چاہتے ہیں کیونکہ لبنان میں فرقہ وارانہ سوچ کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اگر کوئی پارٹی یہ چاہتی ہے کہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہو تو وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو گی-

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ لبنانی فوج اور عوام کے شانہ بشانہ حزب اللہ کے ہتھیار ہی ملک کی سلامتی کی اساس اور ضمانت ہیں اور یہ سب کچھ علاقے کی آشفتہ اور بحرانی صورت حال کی وجہ سے ہے-

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں افغانستان میں داعش کے حالیہ مجرمانہ اور دہشت گردانہ اقدامات، یمن میں سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں اور فلسطینیوں پر صیہونی حکومت کے مظالم کی بھی مذمت کی۔

The post لبنان انتخابات، علاقے کے حکام ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، سید حسن نصراللہ appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

دمشق کے جنوب میں دسیوں دہشت گردوں کی ہلاکت

Hits: 10

شامی فوج نے دمشق کے جنوبی علاقے حجرالاسود میں داعش کے ٹھکانوں پر میزائلوں سے حملہ کیا ہے جس میں دسیوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں جنگ کی خبریں دینے والے انفارمیشن سینٹر نے خبر دی ہے کہ شامی فوج کے میزائل حملے میں حجرالاسود میں داعش کا کنٹرول روم تباہ ہو گیا-

اطلاعات ہیں کہ دمشق کے جنوب میں واقع حجرالاسود محلے اور یرموک کیمپ میں داعش اور تحریرالشام نامی دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں پر شامی فوج کے فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں-

شامی فوج کے یہ حملے ان علاقوں سے دہشت گردوں کے انخلا سے متعلق سمجھوتے کی ناکامی کے بعد شروع ہوئے ہیں- خبروں میں کہا گیا ہے کہ یرموک کیمپ اور حجرالاسود محلہ، جہاں داعش اور تحریرالشام کے عناصر موجود ہیں، اس وقت پوری طرح شامی فوج کے محاصرے میں ہے۔

The post دمشق کے جنوب میں دسیوں دہشت گردوں کی ہلاکت appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،عراق وزیراعظم

Hits: 9

عراق نے ایک بار پھر اس عزم کااظہار کیا کہ اس ملک میں دہشتگردی کو پنپنے نہیں دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کا ہرجگہ پیچھا کریں گے۔

حیدرالعبادی نے کہا کہ داعش کے خلاف فوجی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا اور عراق میں داعش کو پھر سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

شام کے امور میں عدم مداخلت پر تاکید کرتے ہوئے عراق کے وزیراعظم نے کہا کہ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا۔

The post داعش کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،عراق وزیراعظم appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

امریکا کا شام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف

Hits: 10

روس نے کہا ہے کہ شام کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے اور امریکہ کو شام سے نکل جانا چاہئیے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ واشنگٹن شام سے اپنے فوجی دستوں کے انخلا کا عندیہ تو دے چکا ہے لیکن موجودہ حالات میں ایسا ہونا ممکن دکھائی نہیں دے رہا اور یوں لگتا ہے کہ امریکا کا شام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی فرانسیسی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد شامی تنازعے کے حل کے حوالے سے کوئی واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔

روس کے وزیر خارجہ نے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ ’جی سیون‘ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے روس پر کی گئی تنقید کو بھی مسترد کیا۔

واضح رہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے چند روز قبل جوہری ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر شام پر ایک سو سے زائد میزائل داغے جس کی ایران اور روس کی جانب سے اور عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی اور اسے شام کے امور میں کھلی مداخلت اور شام کی ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

The post امریکا کا شام سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico

دنیا کا پہلا بینک جس کا سارا عملہ روبوٹس پر مشتمل ہے

Hits: 3

چین میں دنیا کا پہلا بینک کھولا گیا ہے جس میں انسانی عملہ موجود نہیں اور ان کی جگہ روبوٹ افسران مختلف امور انجام دیتے ہیں۔

دنیا میں کسی بھی بینک کی یہ پہلی شاخ ہے جہاں چہرے کی شناخت، مجازی حقیقت (ورچوئل رئیلٹی) اور مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) سمیت جدید رحجانات کو استعمال کیا گیا ہے اور یہاں انسان نما روبوٹ آپ کی خدمت کےلیے حاضر ہیں۔

یہ برانچ چائنا کنسٹرکشن بینک (سی سی بی) نے شنگھائی میں کھولی ہے جہاں ٹیکنالوجی سے لگاؤ رکھنے والے صارفین بڑی تعداد میں آرہے ہیں اور خود بینک بھی زیادہ تنخواہ والے اسٹاف کو بھرتی نہ کرنے پر خوش ہے۔ اس بینک میں قدم رکھیں تو ایک انسان نما (ہیومینوئیڈ) روبوٹ، آواز پہچاننے والی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے آپ سے بات چیت کرتا ہے۔

بینک میں کئی اے ٹی ایم اور خود کار مشینیں ہیں۔ یہ مشینیں اکاؤنٹ کھولنے، رقم کی منتقلی، منی ایکسچینج، سونے میں سرمایہ کاری اور دیگر خدمات فراہم کرتی ہیں۔ بینک انتظامیہ کے مطابق انسانوں کے بغیر کام کرنے والا یہ خود کار بینک رقم اور غیر رقمی سہولیات کی 90 فیصد ضروریات پوری کرسکتا ہے۔

علاوہ ازیں کسی مشکل کی صورت میں صارفین ویڈیو لنک کے ذریعے دور بیٹھے انسانی افسران سے بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔ سی سی بی کے مطابق یہ شاخ ٹیکنالوجی کی آزمائش اور اسے بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی تاہم بینک نے کہا ہے کہ بااثر اور امیر صارفین کےلیے انسانی عملہ بھی ضروری ہے۔

The post دنیا کا پہلا بینک جس کا سارا عملہ روبوٹس پر مشتمل ہے appeared first on i14 News.

Powered by WPeMatico